ابنا: امریکی وزیر خارجہ جان کیری تمام تر کوششوں کے باوجود تعطّل کے شکار مشرق وسطٰی امن مذاکرات بحال کرانے میں ناکام ہوگئے۔ اسرائیلی اور فلسطینی حکام نے اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے سے انکار کر دیا، تاہم جان کیری کا کہنا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کا سلسلہ تھوڑی اور محنت سے شروع کیا جاسکتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ایک مرتبہ پھر ملاقات کی، جبکہ اس کے فوری بعد وہ فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملے۔ ان ملاقاتوں کے بعد کیری کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم بعد ازاں ان کی مشرقی وسطٰی سفارت کاری بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ محمود عباس کے بقول براہ راست بات چیت اس وقت شروع ہوسکتی ہے جب اسرائیل ایک سو سات فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے۔ غرب اردن میں سڑکوں کی ناکہ بندی ختم اور 1967ء والی سرحدوں کو تسلیم کرے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق بینجمن نیتن یاہو نے پہلی دو شرائط کو رد کر دیا ہے، تاہم وہ تیسرے مطالبے پر بات چیت کرنے پر راضی ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق گذشتہ تین دنوں میں جان کیری کبھی فلسطینی صدر محمود عباس اور کبھی اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ تاہم فلسطینی مذاکرات کار سائب اراکات کا کہنا ہے کہ ابھی اس سمت کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تازہ ترین ملاقات مثبت اور گہری رہی، لیکن ابھی بھی اسرائیلی اور فلسطینی موقف میں خاصا فاصلہ ہے۔ جان کیری نے خطے سے روانہ ہونے سے قبل تل ابیب میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کو یہ بتانے میں بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ اس دورے میں حقیقی معنوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں تھوڑی سی اور محنت کی جائے تو دونوں فریق کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوسکتا ہے۔ جان کیری کا کہنا تھا کہ ہم نے بھی بڑے اختلافات کے ساتھ کوششیں شروع کی تھیں اور اب یہ اختلافات بہت کم ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ابھی اس طرح خطے سے جانا نہیں چاہتے تھے، تاہم وہ اپنے پیچھے لوگ چھوڑ کر جا رہے ہیں جو ان کوششوں کو جاری رکھیں گے۔...../169
30 جون 2013 - 19:30
News ID: 435737
محمود عباس کے بقول براہ راست بات چیت اس وقت شروع ہوسکتی ہے جب اسرائیل ایک سو سات فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے۔ غرب اردن میں سڑکوں کی ناکہ بندی ختم اور 1967ء والی سرحدوں کو تسلیم کرے۔